Sura Ikhlas *سـورۃُ الاخلاص سے تعلق کا نتـیجـہ* میرے دوست ایک عالم فاضل مفتی حافظ قرآن ہیں کہنے لگے سیلانی صاحب کراچی سے راولپنڈی پہنچا اور ایک مسجد کا امام ہو گیا یہ سن 2000 کی بات ہے مسجد کمیٹی نے 1300 روپے وظیفہ مقرر کیا اور رہائش کے نام پر ایک ایسی کوٹھڑی میں بھیج دیا جس کی چھت پر ہاتھ سے دور نہ تھی کمرے کے سنگی فرش پر کچھ نہ تھا چادر چٹائی کی بوجھ سے آزاد تھی چادر تو دور کی بات دیواروں پر کیل تک نہ تھا کہ بندہ کپڑے ہی لٹکا لے... مسجد کمیٹی والوں سے کہا تو بے نیازی سے کہنے لگے خود ہی کیل لگا لو اس میں کیا ہے ۔۔۔ میں کراچی بنوری ٹاؤن کا فاضل تھا ایسی کسمپرسی اور رویوں کا تو سوچا بھی نہ تھا میں ٹھنڈی سانس بھر کر چپ ہورہا کہ یہ بہرحال میرا ہی فیصلہ تھا راولپنڈی میں شدید سردی پڑتی ہے اس ٹھنڈ میں بنا کسی کمبل رضائی کے نیند کہاں سے آتی مسجد کی صفوں میں لپٹ کر ٹھٹرتا رہتا نوبت یہ تھی کہ مجھے کھانے کے لالے پڑے ہوئے تھے ایک قریبی عزیز فاصلے پر رہتے تھے بھوک زیادہ ستاتی تو وہاں چلا جاتا وہاں کبھی چائے مل جاتی یا کھانے کا وقت ہوتا تو دو روٹیاں سالن میسر آجاتا اور میری آنکھوں میں چ...