سـورۃُ الاخلاص سے تعلق کا نتـیجـہ
میرے دوست ایک عالم فاضل مفتی حافظ قرآن ہیں
کہنے لگے سیلانی صاحب کراچی سے راولپنڈی پہنچا
اور ایک مسجد کا امام ہو گیا
اور رہائش کے نام پر ایک ایسی کوٹھڑی میں بھیج دیا
جس کی چھت پر ہاتھ سے دور نہ تھی کمرے کے سنگی فرش پر کچھ نہ تھا
چادر چٹائی کی بوجھ سے آزاد تھی
چادر تو دور کی بات دیواروں پر کیل تک نہ تھا کہ بندہ کپڑے ہی لٹکا لے...
مسجد کمیٹی والوں سے کہا تو بے نیازی سے کہنے لگے خود ہی کیل لگا لو اس میں کیا ہے ۔۔۔
میں کراچی بنوری ٹاؤن کا فاضل تھا
ایسی کسمپرسی اور رویوں کا تو سوچا بھی نہ تھا
میں ٹھنڈی سانس بھر کر چپ ہورہا کہ یہ بہرحال میرا ہی فیصلہ تھا راولپنڈی میں شدید سردی پڑتی ہے اس ٹھنڈ میں بنا کسی کمبل رضائی کے نیند کہاں سے آتی
مسجد کی صفوں میں لپٹ کر ٹھٹرتا رہتا نوبت یہ تھی کہ مجھے کھانے کے لالے پڑے ہوئے تھے ایک قریبی عزیز
فاصلے پر رہتے تھے بھوک زیادہ ستاتی تو وہاں چلا جاتا وہاں کبھی چائے مل جاتی یا کھانے کا وقت ہوتا تو دو روٹیاں سالن میسر آجاتا اور میری آنکھوں میں چمک آجاتی اس کسمپرسی کی حالت میں وقت کیسے گزر رہا تھا نہ پوچھئے پھر اطلاع ملی کہ جامعہ بنوری ٹاؤن کے بعض اساتذہ جن میں محترم مشفق شیخ الحدیث مولانا رزین شاہ صاحب بھی ہیں تشریف لا رہے ہیں میرا دل بلیوں اچھلے کہ میرے استاد آرہے ہیں اور پریشانی الگ کہ خالی جیب سے کیا میزبانی کروں ، جس روز اساتذہ ریلوے اسٹیشن پہنچے میں بھی دیگر دوستوں اور سابقین جامعہ کے ساتھ پہنچا ان میں صاحب حیثیت بھی تھے جو چمکتی دمکتی کاروں میں آئے تھے ان سب کا مہمانوں کی میزبانی پر اصرار تھا لیکن یہ اعزاز میری قسمت میں تھا اب مجھے کہا کہ چلو بھئی!تم ہمارے امیر سفر ہو تمہارے ساتھ چلنا ہے نکالو اپنی گاڑی ۔۔۔ اور میں نے سرجھکا لیا کہ کون سی گاڑی اور کیسی گاڑی یہاں تو کھوتا گاڑی بھی نہیں ، شرمندہ شرمندہ لہجے میں بتایا اور اشک ضبط کر لئے وہاں موجود ساتھیوں نے ہمیں اس کال کوٹھڑی میں پہنچا دیا جہاں ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے مولانا رزین شاہ صاحب ماجرہ بھانپ چکے تھے انہوں نے نصیحت کی کہ سورہ اخلاص سے تعلق جوڑ لو اور ایسا جوڑو کہ اس کے ذکر کے بغیر ناشتہ نہ ہو روز صبح دو سو بار سورہ اخلاص پڑھنا معمول بنا لو چار سال میں اپنی گاڑی اور گھر کے مالک ہوگے ، یہ استاد کی دعا تھی اور سورہ اخلاص کا اعجاز کہ چار برسوں میں اپنی گاڑی کا مالک ہوگیا اور وہی مسجد جس کی کمیٹی جس نے مجھے چٹائیوں میں لپٹا چھوڑ دیا تھا اب میرے آگے بچھی جاتی ہے آج اس مسجد میں چندہ لینے کی ممانعت ہے الحمد اللہ اس مسجد اور مدرسے کے اخراجات دو افراد اٹھاتے ہیں ان میں ایک میں خاکسار بھی ہوں میں چار برسوں میں ہی اس قابل ہوگیا کہ مسجد سے وظیفے کی ضرورت نہیں پڑی اور منع کردیا انہوں نے سورہ اخلاص کے ورد کا طریقہ یہ بتایا کہ صبح فجر کے وقت اول آخر درود شریف پڑھ کر 313 بار سورہ اخلاص پڑھنا معمول بنا لیں۔

Comments
Post a Comment