بچیوں کے لیے سرکاری ملازمت کے خواہش مند والدین توجہ فرمائیں*
*بچیوں کے لیے سرکاری ملازمت کے خواہش مند والدین توجہ فرمائیں*
لڑکیاں جب گورنمنٹ ملازمت میں آتی ہیں تو ان کو اور انکے والدین کو لگتا ہے اب رشتہ طے کرنے میں قدرے آسانی ہوگی۔ دسواں سال ہے۔ گورنمنٹ ملازمت میں۔ ہمارا محکمہ میں کو ایجوکیشن ہے۔ اور اساتذہ بھی مرد و خواتین اکٹھے ہیں۔ یوں کہوں کہ ایک سکول میں تین مرد استاد اور 7 خواتین ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ اکثریت سکولوں میں تو ایک ہی مرد ہے۔
صرف اپنے محکمہ کی نہیں سکول ایجوکیشن اور خواتین کے کالجز میں موجود ایسی خواتین جو ابھی غیر شادی شدہ ہیں۔ انکی شادیوں میں آسانی کی بجائے مشکلات در پیش ہیں۔ شادیاں غیر معمولی تاخیر کا شکار ہیں۔ یہ ہماری بہنیں خود ہی بتاتی ہیں کہ آٹھ دس سال قبل جب انکی ملازمت ہوئی تھی۔ تو انکی وہ کلاس فیلوز جنکی ملازمت نہیں ہوئی تھی۔ انکی شادیاں ہو گئی تھیں۔ اب انکے بچے سکول جاتے ہیں اور وہ اپنی فیملی مکمل کر چکی ہیں۔
وجوہات جو ہیں وہ میں آپ وہ خواتین خود اور انکے گھر والے بھی بخوبی جانتے ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد ان بہنوں اور انکے گھر والوں کے معاملات پر کوئی تبصرہ کرنا نہیں ہے۔ ملازمت کے بعد اگر تو پہلے ایک دو سال میں شادی ہوگئی سمجھو ہو گئی۔ نہ ہوئی تو دس سال پار ہیں۔ نہیں یقین تو اپنے آس پاس نظر دوڑا کر میری اس بات کو کنفرم کر لیں۔ سرکاری ملازمت پیشہ بہو کی تلاش کرنے والے لالچی سسرالیوں کو ٹیچر لیکچرر ملتی نہیں ہیں۔ اور یہاں سکول کالج رشتہ/شادی کے انتظار میں بیٹھی خواتین سے بھرے ہوئے ہیں۔
یہ پوسٹ ان لوگوں کے لیے ہے۔ جو اپنی بیٹی بہن کا رشتہ کرنے میں اس وجہ سے غیر ضروری تاخیر کر رہے ہیں۔ کہ اسکی ملازمت ہوگی تو ہم پلہ یا مناسب رشتہ مل جائے گا۔ آپ ایک بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ خواتین کا کوئی بھی سرکاری سکول کالج بلکہ جامعات وزٹ کریں۔ اور معلوم کریں یہاں غیر شادی شدہ سٹاف کتنا ہے۔ ممکن ہو تو انکی عمر بھی معلوم کریں۔ 90 فیصد 30 سے چالیس کے درمیان پائیں گے۔ میں اس پوسٹ میں اس مسئلے کا کوئی حل پیش نہیں کر رہا۔ نہ میں اس حق میں ہوں کہ خواتین ملازمت کریں ہی نہ۔ وہ اپنے وقت پر شادی ہونے دیں۔ شادی کے بعد تعلیم تو پاس ہی ہے۔ جب مرضی ملازمت کر لیں۔
یہ صرف ایک مسئلہ ہے۔ اس جیسے سینکڑوں مسائل جن پر بات کرتے بھی سو بار سوچنا پڑتا ہے۔ الفاظ کا چناؤ بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ کہ مخالف پارٹی آپ پر ذاتی حیثیت میں گولہ بارود لے کر چڑھ دوڑتی ہے۔ لہذا ان موضوعات پر اپنے مشاہدات اور تجربات کو کم ہی شئیر کرتا ہوں آپ یقین کریں مجھ سے سینکڑوں گورنمنٹ ملازم خواتین رابطہ کرتی ہیں تو رو پڑتی ہیں کہ ان کے اپنے ہی ان کے دشمن بنے ہوئے ہیں ان کی ساٹھ سے ستر ہزار کی تنخواہ ہی ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے شروع شروع میں یہ سب بہت بھلا لگتا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ حقیقت آشکار ہوتی ہے تو سوائے پچھتاوے کے اور کچھ نہیں بچتا بچے یا بچیوں کی شادیاں ان کی تعلیم ختم ہونے سے پہلے کر دینے میں ہی عافیت ہے کوئی بھی ملازمت لڑکیوں کے رشتے میں معاون ثابت نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات یہ وبال بن جاتی ہے اللہ تعالیٰ ھم سب کی بچیوں کی حفاظت فرمائے اور بہتر سے بہترین نصیب کرے آمین
تحریر کو صدقہ جاریہ اور اللہ کی رضا کی نیت سے اپنے پیاروں کے ساتھ شیئر کیجئے ہو سکتا ہے اپ کی تھوڑی سی محنت یا کوشش کسی کی زندگی بدل دے

Comments
Post a Comment